کیا تربتِ امام حسینؑ کھانا جائز ہے؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
اہلِ بیتؑ سے منقول روایات کے مطابق عام طور پر مٹی کھانا جائز نہیں، لیکن تربتِ حضرت امام حسینؑ کو ایک خاص استثنا حاصل ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تربت کو اپنے اولیاء اور شیعوں کے لیے باعثِ شفا و برکت قرار دیا ہے۔
اسی بنا پر:
نوزائیدہ بچے کے کام (تہنیک) کے لیے تربتِ امام حسینؑ استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
تربتِ کربلا سے مہر اور تسبیح بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
تربت کو بطورِ تبرک اپنے ساتھ رکھنے کی تاکید ملتی ہے۔
بہت تھوڑی مقدار (مثلاً ایک مسور یا عدس کے دانے کے برابر) پانی میں حل کرکے شفا کی نیت سے کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
بعض روایات میں عید الفطر کے دن افطار تربتِ حسینی سے کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔
البتہ اس کی مقدار بہت کم ہونی چاہیے اور اسے شفا، تبرک اور احترام کی نیت سے استعمال کیا جائے، نہ کہ عام خوراک کے طور پر۔
روایت:
امام موسیٰ کاظمؑ نے فرمایا:
"ہماری تربتوں میں سے کسی کو تبرک کے لیے نہ لو، کیونکہ ہمارے جدّ امام حسینؑ کی تربت کے علاوہ تمام تربتیں (کھانے کے اعتبار سے) حرام ہیں، اور اللہ نے امام حسینؑ کی تربت کو ہمارے شیعوں اور دوستوں کے لیے شفا قرار دیا ہے۔”