۱۔ کن صورتوں میں مقلد اپنے مرجعِ تقلید سے عدول (تبدیلی) کر سکتا ہے؟۲۔ کیا اعلم مرجع سے غیر اعلم مرجع کی طرف صرف اس وجہ سے عدول کرنا جائز ہے کہ اعلم مرجع کے فتاویٰ زمانے کے مطابق معلوم نہ ہوں یا ان پر عمل کرنا بہت دشوار ہو؟
سوال
Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link and will create a new password via email.
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit.Morbi adipiscing gravdio, sit amet suscipit risus ultrices eu.Fusce viverra neque at purus laoreet consequa.Vivamus vulputate posuere nisl quis consequat.
Answer ( 1 )
جواب:
شہید امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے فتوے کے مطابق:
۱۔ زندہ مرجعِ تقلید سے ایسے مسائل میں، جن میں وہ فتویٰ رکھتا ہو، کسی دوسرے مجتہد کی طرف عدول کرنا بنا بر احتیاط جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ دوسرا مجتہد پہلے مرجع سے اعلم ہو اور کسی مسئلے میں اس کا فتویٰ پہلے مجتہد کے فتویٰ کے خلاف ہو۔
۲۔ صرف یہ گمان کہ مرجعِ تقلید کے فتاویٰ زمانے اور موجودہ حالات کے مطابق نہیں ہیں، یا ان پر عمل کرنا مشکل ہے، اعلم مجتہد سے کسی دوسرے مجتہد کی طرف عدول کے جواز کا سبب نہیں بنتا۔
(اجوبۃ الاستفتاءات، مقامِ معظم رہبری)